in The Hereafter
The Inevitable (56:60-62)
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ ٱلْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ٦٠
We have ordained death for ˹all of˺ you, and We cannot be prevented
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
We have appointed (the times of) death among you, and We cannot be frustrated
— T. Usmani
We have decreed death among you, and We are not to be outdone
— Saheeh International
We mete out death among you, and We are not to be outrun,
— M. Pickthall
We have decreed Death to be your common lot, and We are not to be frustrated
— A. Yusuf Ali
ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں
— Fe Zilal al-Qur'an
ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے،1 اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]یعنی تمہاری پیدائش کی طرح تمہاری موت بھی ہمارے اختیار میں ہے۔ ہم یہ طے کرتے ہیں کہ کس کو ماں کے پیٹ ہی میں مر جانا ہے، اور کسے پیدا ہوتے ہی مر جانا ہے، اور کسے کس عمر تک پہنچ کر مرنا ہے۔ جس کی موت کا جو وقت ہم نے مقدر کر دیا ہے اس سے پہلے دنیا کی کوئی طاقت اسے مار نہیں سکتی، اور اس کے بعد ایک لمحہ کے لیے بھی زندہ نہیں رکھ سکتی۔ مرتے والے بڑے بڑے ہسپتالوں میں بڑے سے بڑے ڈاکٹروں کی آنکھوں کے سامنے مرتے ہیں، بلکہ ڈاکٹر خود بھی اپنے وقت پر مر جاتے ہیں۔ کبھی کوئی نہ موت کے وقت کو جان سکا ہے، نہ آتی ہوئی موت کو روک سکا ہے، نہ یہ معلوم کر سکا ہے کہ کس کی موت کس ذریعہ سے، کہاں، کس طرح واقع ہونے والی ہے۔
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں
— Fatah Muhammad Jalandhari
ہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا[1] ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں.[2]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کر دیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کر سکتا۔ چنانچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے۔
[2]یا مغلوب اور عاجز نہیں ہیں، بلکہ قادر ہیں۔
ہم نے تمہارے مابین موت کو ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
ہم ٹھہرا چکے تم میں مرنا [1] اور ہم عاجز نہیں
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]یعنی جلانا مارنا سب ہمارے قبضے میں ہے۔ جب وجود وعدم کی باگ ہمارے ہاتھ میں ہوئی تو مرنے کے بعد اٹھادینا کیا مشکل ہوگا۔
ہم نے تمھارے درمیان موت مقدر کی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں
— Maulana Wahiduddin Khan
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَـٰلَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِى مَا لَا تَعْلَمُونَ ٦١
from transforming and recreating you in forms unknown to you.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
from replacing you with others like you, and creating you (afresh) in that (form) which you do not know.
— T. Usmani
In that We will change your likenesses and produce you in that [form] which you do not know.[1]
— Saheeh International
[1]- An alternative meaning has also been given: '...in that We will replace the likes of you [with others upon the earth] and create you [in the Hereafter] in that which you do not know.'
That We may transfigure you and make you what ye know not.
— M. Pickthall
from changing your Forms and creating you (again) in (forms) that ye know not.
— A. Yusuf Ali
کہ تم جیسے اور لوگ لے آئیں اور کسی ایسے جہان میں تمہیں پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے۔
— Fe Zilal al-Qur'an
کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے۔ 1
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]یعنی جس طرح ہم اس سے عاجز نہ تھے کہ تمہیں تمہاری موجودہ شکل و ہیئت میں پیدا کریں، اسی طرح ہم اس سے بھی عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری تخلیق کا طریقہ بدل کر کسی اور شکل و ہیئت میں کچھ دوسرے صفات و خصوصیات کے ساتھ تم کو پیدا کر دیں۔ آج تم کو ہم اس طرح پیدا کرتے ہیں کہ تمہارا نطفہ قرار پاتا ہے اور تم ماں کے پیٹ میں درجہ بدرجہ بن کر ایک بچہ کی صورت میں برآمد ہوتے ہو۔ یہ طریق تخلیق بھی ہمارا ہی مقرر کیا ہوا ہے۔ مگر ہمارے پاس بس یہی ایک لگا بندھا طریقہ نہیں ہے جس کے سوا ہم کوئی اور طریقہ نہ جانتے ہوں، یا نہ عمل میں لا سکتے ہوں۔ قیامت کے روز ہم تمہیں اسی عمر کے انسان کی شکل میں پیدا کر سکتے ہیں جس عمر میں تم مرے تھے۔ آج تمہاری بینائی، سماعت اور دوسرے حواس کا پیمانہ ہم نے کچھ اور رکھا ہے۔ مگر ہمارے پاس انسان کے لیے بس یہی ایک پیمانہ نہیں ہے جسے ہم بدل نہ سکتے ہوں۔ قیامت کے روز ہم اسے بدل کر کچھ سے کچھ کر دیں گے یہاں تک کہ تم وہ کچھ دیکھ اور سن سکو گے جو یہاں نہیں دیکھ سکتے اور نہیں سن سکتے۔ آج تمہاری کھال اور تمہارے ہاتھ پاؤں اور تمہاری آنکھوں میں کوئی گویائی نہیں۔ مگر زبان کو بولنے کی طاقت ہم ہی نے تو دی ہے۔ ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ قیامت کے روز تمہارا ہر عضو اور تمہارے جسم کی کھال کا ہر ٹکڑا ہمارے حکم سے بولنے لگے۔ آج تم ایک خاص عمر تک ہی جیتے ہو اور اس کے بعد مر جاتے ہو۔ یہ تمہارا جینا اور مرنا بھی ہمارے ہی مقرر کردہ ایک قانون کے تحت ہوتا ہے۔ کل ہم ایک دوسرا قانون تمہاری زندگی کے لیے بنا سکتے ہیں جس کے تحت تمہیں کبھی موت نہ آئے۔ آج تم ایک خاص حد تک ہی عذاب برداشت کر سکتے ہو، جس سے زائد عذاب اگر تمہیں دیا جائے تو تم زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ ضابطہ بھی ہمارا ہی بنایا ہوا ہے۔ کل ہم تمہارے لیے ایک دوسرا ضابطہ بنا سکتے ہیں جس کے تحت تم ایسا عذاب ایسی طویل مدت تک بھگت سکو گے جس کا تم تصور تک نہیں کر سکتے، اور کسی سخت سے سخت عذاب سے بھی تمہیں موت نہ آئے گی۔ آج تم سوچ نہیں سکتے کہ کوئی بوڑھا جوان ہو جائے، کبھی بیمار نہ ہو، کبھی اس پر بڑھاپا نہ آئے اور ہمیشہ ہمیشہ وہ ایک ہی عمر کس جوان رہے۔مگر یہاں جوانی پر بڑھاپا ہمارے بنائے ہوئے قوانین حیات ہی کے مطابق تو آتا ہے۔ کل ہم تمہاری زندگی کے لیے کچھ دوسرے قوانین بنا سکتے ہیں جن کے مطابق جنت میں جاتے ہی بوڑھا جوان ہو جائے اور اس کی جوانی و تندرستی لا زوال ہو۔
کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں
— Fatah Muhammad Jalandhari
کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بےخبر ہو.[1]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی تمہاری صورتیں مسخ کر کے تمہیں بندر اور خنزیر بنادیں اور تمہاری جگہ تمہاری شکل و صورت کی کوئی اور مخلوق پیداکردیں۔
کہ تمہاری مثل بدل کر لائیں اور تمہیں ایسی تخلیق میں اٹھائیں جسے تم نہیں جانتے !
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
اس بات سے کہ بدلے میں لے آئیں تمہاری طرح کے لوگ اور اٹھا کھڑا کریں تم کو وہاں جہاں تم نہیں جانتے [1]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں 'یعنی تم کو اور جہان میں لیجائیں، تمہاری جگہ یہاں اور خلقت بسادیں'۔
کہ تمھاری جگہ تمھارے جیسے پیداکردیں اور تم کوایسی صورت میں بنادیں جن کو تم جانتے نہیں
— Maulana Wahiduddin Khan
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ٦٢
You already know how you were first created. Will you not then be mindful?
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
And you certainly know the first creation; then why do you not take lesson?
— T. Usmani
And you have already known the first creation, so will you not remember?
— Saheeh International
And verily ye know the first creation. Why, then, do ye not reflect?
— M. Pickthall
And ye certainly know already the first form of creation: why then do ye not celebrate His praises?
— A. Yusuf Ali
اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو ، پھر کیوں سبق نہیں لیتے ؟
— Fe Zilal al-Qur'an
اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟ 1
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]یعنی تم یہ تو جانتے ہی ہو کہ پہلے تم کیسے پیدا کیے گئے تھے۔ کس طرح باپ کی صُلب سے وہ نطفہ منتقل ہوا جس سے تم وجود میں آئے کس طرح رحم مادر میں، جو قبر سے کچھ کم تاریک نہ تھا، تمہیں پرورش کر کے زندہ انسان بنایا گیا۔ کس طرح ایک ذرہ بے مقدار کو نشو نما دے کر یہ دل و دماغ، یہ آنکھ کان اور یہ ہاتھ پاؤں اس میں پیدا کیے گئے اور عقل و شعور، علم و حکمت، صنعت و ایجاد اور تدبیر و تسخیر کی یہ حیرت انگیز صلاحیتیں اس کو عطا کی گئیں۔ کیا یہ معجزہ مردوں کو دوبارہ جِلا اٹھانے سے کچھ کم عجیب ہے۔؟ اس عجیب معجزے کو جب تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور خود اس کی زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود ہو تو کیوں اس سے یہ سبق نہیں سیکھتے کہ جس خدا کی قدرت سے یہ معجزہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔؟
تمہیں یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟[1]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔
اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟
— Fatah Muhammad Jalandhari
اور تم (اپنی) پہلی زندگی کے بارے میں تو جانتے ہی ہو
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
اور تم جان چکے ہو پہلا اٹھان پھر کیوں نہیں یاد کرتے [1]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]یعنی پہلی پیدائش کو یاد کرکے دوسری کو بھی سمجھ لو۔
اور تم پہلی پیدائش کو جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے
— Maulana Wahiduddin Khan
The above ayaat are from the third set of description of Surah alWaqiah (The Inevitable Event).
When the inevitable event takes place, elevating some and debasing others, people will be divided into three sets of mates:
- companions of the right (اَصۡحٰبُ الۡمَيۡمَنَةِ ؕ ٨),
- companions of the left (اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔـمَةِؕ ٩),
- the foremost (وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَۚ ۙ ١٠)
Q56:52-56 states that they will certainly taste of the Tree of Zaqqum, ..., on the Day of Recompense.
Q56:57-59 onwards poses a series of questions (translation: M. Pickthall):
- We created you. Will ye then admit the truth?
- Have ye seen that which ye emit?
- Do ye create it or are We the Creator?
Then the ayaat quoted at the beginning of this post (Q56:60-62) warn (translation: M. Pickthall):
- We mete out death among you, and We are not to be outrun,
- That We may transfigure you and make you what ye know not.
- And verily ye know the first creation. Why, then, do ye not reflect?
We know from The Quran, Surah at-Teen, that humans were created in an excellent form (Q95:4), and then reduced to a 'lowest of the low' form (Q95:5).
From the story of Adam, we know that Iblis (Satan) deceived the couple with false promises and made them commit a legal mistake, by eating from a Forbidden Tree, causing their devolution, causing darkness to come upon their nafs, and they also lost their natural clothing.
We know the present form of humans.
We learn from The Quran (Q2:130) that Abraham was chosen in this world, and in the Hereafter, he will be from among the reformed (وَاِنَّهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيۡنَ ١٣٠).
The aim and prayer of all pious people is to be among the reformed (الصّٰلِحِيۡنَ) in the Hereafter.
We believe that Allah will reform the people destined to enter the Gardens of Eternity, recreating them in an excellent form, and granting them perfect health and immortality. These will be from:
- Q56:11-26 describes the hereafter of the third category, who are the foremost (السّٰبِقُوۡنَۚ)
- Q56:27-40 describes the (اَصۡحٰبُ الۡيَمِيۡنِؕ ٢٧), which is also translated as companions of the right
- Q56:41-56 describes the (اَصۡحٰبُ الشِّمَالِؕ ٤١) which is also translated as companions of the left
From The Quran, we learn that the jews who violated the Sabbath restrictions were devolved into apes (Q2:65-66, Q7:164-166).
From The Quran, we also learn of a devolution into apes and swine (Q5:60).
From a Hadith of Prophet Muhammad ﷺ , we learn that:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ: لَا تَعْصِنِي؟ فَيَقُولُ لَهُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ. فَيَقُول إِبراهيم: يَا رب إِنَّك وَعَدتنِي أَلا تخزني يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ثُمَّ يُقَالُ لِإِبْرَاهِيمَ: مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُؤْخَذُ بقوائمه فَيُلْقى فِي النَّار ". رَوَاهُ البُخَارِيّ
Abu Huraira reported the Prophet as saying, "On the day of resurrection Abraham will meet his father Azar with blackness and dust on Azar's face and ask him if he did not tell him not to disobey him. His father will reply that now he will not disobey him, and Abraham will say, `My Lord, Thou hast promised not to put me to shame on the day when men are resurrected, but what shame is greater than my father being farthest from Thy mercy?' God most high will reply, `I have debarred the infidels from paradise.' Abraham will then be told to look and see what is under his feet, and he will see a bespattered hairy hyena which will then be taken by its legs and thrown into hell [*]." *Abraham's father will be turned into the form of a hyena so that Abraham will not see him being thrown into hell in his own form.
Bukhari transmitted it.
Mishkat al-Masabih 5538
https://sunnah.com/mishkat:5538
Related Posts
Snails, Slugs & The Devolution of Adam
Adam's Attempt to Improve upon Allah's Creation
When the People of the Book Wronged
....
No comments:
Post a Comment